پیر 27 جولائی 2026 - 18:39
مدرسہ بنت الہدیٰ ہریانہ ہندوستان میں جنابِ سکینہ بنت الحسینؑ کی شہادت کی مناسبت سے تین روزہ مجالسِ عزاء کا انعقاد

حوزہ/مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ، ہریانہ ہندوستان کے زیرِ اہتمام حضرت سکینہ بنت الحسینؑ کی شہادت کی مناسبت سے تین روزہ مجالسِ عزاء کا باوقار انعقاد عمل میں آیا، جس میں مدرسہ کی طالبات، معلمات، اور مؤمنات نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے دخترِ سید الشہداء حضرت امام حسینؑ کی مظلومانہ شہادت پر بارگاہِ اہل بیتؑ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ مجالسِ عزاء محترمہ سیدہ علقمہ بتول صاحبہ، معلمۂ مدرسہ اور محترمہ سیدہ علی فاطمہ صاحبہ، ناظمۂ تعلیم کی خصوصی کاوشوں، محنت اور رہنمائی کا ثمر رہی ہیں، جن کی تربیت و سرپرستی میں طالبات نے مجالسِ عزاء کے مختلف پروگراموں میں نہایت بہترین اور مؤثر انداز سے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور تلاوتِ کلامِ پاک، مرثیہ خوانی، منقبت، تقریر اور نظامت کے فرائض انجام دے کر مجالس کو منظم و مؤثر بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔

تین روز تک جاری رہنے والی ان مجالس میں تلاوتِ کلامِ الٰہی، مرثیہ خوانی، منقبت، سوز و سلام اور تقریر کے ذریعے مصائبِ اہل بیتؑ، بالخصوص حضرت سکینہ بنت الحسینؑ کی مظلومیت، اسیری اور شہادت کو یاد کیا گیا۔ مجالس کے دوران ماحول انتہائی رقت انگیز اور سوگوار رہا، جبکہ خواتین و طالبات نے گریہ و زاری کے ساتھ دخترِ مظلومِ کربلا حضرت امام حسینؑ کو پرسہ پیش کیا۔

مدرسہ بنت الہدیٰ ہریانہ ہندوستان میں جنابِ سکینہ بنت الحسینؑ کی شہادت کی مناسبت سے تین روزہ مجالسِ عزاء کا انعقاد

پہلی مجلسِ عزاء

پہلی مجلسِ عزاء کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت سیدہ فائزہ بتول نے حاصل کی۔ بعد ازاں محترمہ سیدہ گل افشاں بتول صاحبہ نے نہایت دلسوز اور پرسوز انداز میں مرثیہ خوانی کرکے فضائے مجلس کو سوگوار بنا دیا۔

اس موقع پر حنا بتول، جشن زہرا اور سیدہ زینب نے بارگاہِ جنابِ سکینہؑ میں منقبت پیش کی۔ بعد ازاں سیدہ ذکیہ بتول اور سیدہ چاند بی بی نے مؤثر اور فکر انگیز تقریر کے ذریعے سیرتِ حضرت سکینہؑ، صبر و استقامت اور مصائبِ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

مجلس کی نظامت کے فرائض سیدہ جانشین فاطمہ نے نہایت احسن انداز میں انجام دیے۔

مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے سیدہ کریمہ بتول نے حضرت سکینہ بنت الحسینؑ کی حیاتِ مبارکہ، کربلا کے بعد اہل بیتؑ کی اسیری اور شام کے زندان میں دخترِ حسینؑ کی مظلومانہ شہادت کے دردناک واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت سکینہؑ صرف تاریخِ کربلا کی ایک مظلوم بچی نہیں بلکہ صبر، وفا، معرفت، ولایت اور حق پر ثابت قدمی کی ایک روشن علامت ہیں۔ واقعۂ کربلا کے بعد جنابِ سکینہؑ نے جس صبر و استقامت کے ساتھ مصائب برداشت کیے، وہ خواتین اور بالخصوص نسلِ نو کے لیے عظیم درسِ حیات ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجالسِ عزاء کا مقصد صرف گریہ و ماتم نہیں، بلکہ مکتبِ کربلا کے پیغام کو سمجھنا، اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنا اور نسلِ نو کے دلوں میں محبتِ اہل بیتؑ، ولایت اور حق و حقیقت کی معرفت کو فروغ دینا بھی ہے۔

مدرسہ بنت الہدیٰ ہریانہ ہندوستان میں جنابِ سکینہ بنت الحسینؑ کی شہادت کی مناسبت سے تین روزہ مجالسِ عزاء کا انعقاد

دوسری مجلسِ عزاء

دوسری مجلسِ عزاء کا آغاز سیدہ بصارت فاطمہ کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد محترمہ سیدہ تحریر فاطمہ صاحبہ نے نہایت پرسوز انداز میں مرثیہ خوانی کی، جس کے دوران مجلس میں موجود خواتین پر رقت طاری ہوگئی اور کئی آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔

بعد ازاں سیدہ رہنما بتول اور سیدہ سمیرہ بتول نے بارگاہِ حضرت سکینہؑ میں منقبت پیش کی۔ مجلس سے سیدہ جزا بتول نے تقریر کرتے ہوئے واقعۂ کربلا کے بعد اہل بیتؑ کی اسیری اور حضرت سکینہؑ کی مظلومانہ زندگی کے مختلف گوشوں کو بیان کیا۔

مجلس کی نظامت کے فرائض سیدہ ضحیٰ بی بی نے انجام دیے۔

مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے سیدہ فائزہ بتول نے کہا کہ جنابِ سکینہؑ کی شہادت کربلا کے اس دردناک باب کی یاد ہے جس نے تاریخِ انسانیت کو ہمیشہ کے لیے غمگین کردیا۔ ایک کم سن دخترِ حسینؑ کا شام کے زندان میں اپنے بابا کی یاد میں تڑپنا اور بالآخر شہید ہوجانا، اہل بیتؑ کے مصائب کی انتہا کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت سکینہؑ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کی راہ میں آنے والی ہر آزمائش کو صبر، شجاعت اور ایمان کے ساتھ برداشت کیا جائے۔ آج کی خواتین اور طالبات کو چاہیے کہ وہ حضرت سکینہؑ کی سیرت سے روشنی حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو عفت، حیا، معرفتِ اہل بیتؑ اور دین داری سے مزین کریں۔

مدرسہ بنت الہدیٰ ہریانہ ہندوستان میں جنابِ سکینہ بنت الحسینؑ کی شہادت کی مناسبت سے تین روزہ مجالسِ عزاء کا انعقاد

تیسری مجلسِ عزاء

تین روزہ مجالسِ عزاء کی تیسری مجلس کا آغاز سیدہ علینہ زینب نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا۔ اس کے بعد محترمہ سیدہ وسیم زہرا صاحبہ نے نہایت دلسوز انداز میں مرثیہ خوانی کی، جس سے مجلس کا ماحول غم و اندوہ میں ڈوب گیا اور خواتین و طالبات نے بارگاہِ دخترِ حسینؑ میں اشکوں کے نذرانے پیش کیے۔

بعد ازاں سیدہ ازنا بتول، سیدہ محدثہ بتول اور منتشاء بتول نے حضرت سکینہ بنت الحسینؑ کی شان میں منقبت پیش کی۔

مجلس سے سیدہ سمانہ خاتون نے مؤثر اور فکر انگیز تقریر کی، جبکہ نظامت کے فرائض سیدہ فائزہ بتول نے انجام دیے۔

مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے سیدہ ممتاز فاطمہ نے حضرت سکینہؑ کی مظلومانہ شہادت کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ کربلا کے بعد اہل بیتؑ کی اسیری دراصل ظلم کے ایوانوں کے سامنے حق کی ایک مسلسل گواہی تھی، اور جنابِ سکینہؑ کی مظلومیت نے اس گواہی کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کے صفحات پر ثبت کردیا۔

انہوں نے کہا کہ حضرت سکینہؑ کی یاد ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اہل بیتؑ سے محبت محض جذبات کا نام نہیں بلکہ ان کے کردار، تعلیمات اور اخلاق کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کا نام ہے۔ مکتبِ اہل بیتؑ کی خواتین اور طالبات اگر سیرتِ حضرت سکینہؑ کو اپنی زندگی کا نمونہ بنائیں تو وہ حیا، عفت، صبر، شجاعت اور معرفت کے زیور سے آراستہ ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجالسِ عزاء نسلِ نو کی دینی و اخلاقی تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں، جہاں گریہ و عزاداری کے ساتھ ساتھ کربلا کے حقیقی پیغام کو بھی عام کیا جاتا ہے۔

بعد ازاں ذاکرۂ اہل بیتؑ سیدہ ممتاز فاطمہ نقوی نے نہایت پرسوز اور دلسوز انداز میں حضرت سکینہ بنت الحسینؑ کے مصائب بیان کیے۔ مصائبِ جنابِ سکینہؑ کی دردناک عکاسی اور اسیری و شہادت کے دلخراش واقعات کے تذکرے کے دوران مجلس کا ماحول انتہائی سوگوار ہوگیا اور خواتین میں گریہ و زاری کی صدائیں بلند ہوگئیں۔ کئی خواتین شدتِ غم سے بے قرار ہوگئیں اور فضائے مجلس یا سکینہؑ، یا مظلومۂ کربلا کی صداؤں اور آہوں سے گونج اٹھی۔

شبیہِ تابوتِ جنابِ سکینہؑ کی برآمدگی

تین روزہ مجالسِ عزاء کے اختتام پر جنابِ سکینہ بنت الحسینؑ کی شبیہِ تابوت برآمد کی گئی۔ اس موقع پر فضا انتہائی سوگوار ہوگئی اور عزادارانِ اہل بیتؑ نے گریہ و زاری کرتے ہوئے دخترِ مظلومِ کربلا حضرت امام حسینؑ کی مظلومہ شہیدہ کو پرسہ پیش کیا۔

شبیہِ تابوت کے جلوس میں خواتین اور طالبات نے عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کی اور یا سکینہؑ، یا مظلومۂ کربلا کی صداؤں کے ساتھ جنابِ سکینہؑ کی مظلومیت کو یاد کیا۔ اس موقع پر شرکائے مجلس نے شہدائے کربلا اور بالخصوص حضرت سکینہ بنت الحسینؑ کی بارگاہ میں عقیدت و محبت کے نذرانے پیش کیے۔

مدرسہ بنت الہدیٰ ہریانہ ہندوستان میں جنابِ سکینہ بنت الحسینؑ کی شہادت کی مناسبت سے تین روزہ مجالسِ عزاء کا انعقاد

تینوں مجالسِ عزاء کے اختتام پر مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ، ہریانہ کی جانب سے شرکائے مجالس کے لیے تبرک کا بھی اہتمام کیا گیا، جو ہر مجلس کے اختتام پر خواتین اور طالبات میں عقیدت و محبت کے ساتھ تقسیم کیا گیا۔

یہ تین روزہ مجالسِ عزاء اس عہد کی تجدید کے ساتھ اختتام پذیر ہوئیں کہ مکتبِ کربلا کے پیغام، محبتِ اہل بیتؑ اور عزاداریِ سیدالشہداءؑ کو نسل در نسل منتقل کیا جاتا رہے گا اور حضرت سکینہؑ کی مظلومیت و شہادت کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے گا۔

قابلِ ذکر ہے کہ مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ، ہریانہ میں دینی و تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اہل بیتِ اطہارؑ کی سیرت و تعلیمات سے نئی نسل کو روشناس کروانے اور خواتین و طالبات کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے مختلف علمی، تربیتی اور مذہبی پروگراموں کا باقاعدگی سے انعقاد کیا جاتا ہے۔

مدرسہ بنت الہدیٰ ہریانہ ہندوستان میں جنابِ سکینہ بنت الحسینؑ کی شہادت کی مناسبت سے تین روزہ مجالسِ عزاء کا انعقاد

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha